الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّلَاثِيَّاتِ باب: تین تین امور کا بیان
حدیث نمبر: 9966
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقْبِلُوا وَلَا تُحَفِّلُوا وَلَا يَنْعِقْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ نہ ہوا کرو، (دھوکہ دینے کے لیے جانوروں کا) دودھ نہ روکا کرو اور بکریوں کے چرواہوں کی طرح ایک دوسرے کو آواز نہ دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سنجیدگی اور وقار کے ساتھ بولنا چاہیے، چیخنے اور اونچی اونچی آوازیں دینے سے بچنا چاہیے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۔} … اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے برییقینا گدھوں کی آواز ہے۔ (سورۂ لقمان: ۱۹)