حدیث نمبر: 9961
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمُ إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی انگور کو کَرْم نہ کہے، کیونکہ کَرْم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … عرب لوگ انگور کو اس وجہ سے کَرْم کہتے تھے، کیونکہ اس سے بنایا جانے والا شراب کَرَم یعنی سخاوت اور فیاضی پر ابھارتا تھا، جب شریعت نے شراب کو حرام کیا تو مدح والے اس نام سے بھی منع کر دیا، تاکہ نفسوں کا میلان اُدھر نہ ہو سکے اور اس خوبصورت نام کو مسلمان کے ساتھ خاص کر دیا۔
اس حدیث ِ مبارکہ کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنی جگہ پر برقرار رکھا جائے {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … بیشک تم میں سب سے زیادہ کرم اور عزت والا وہ ہے، جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمان کی جو صفت بیان کی ہے، وہ اس لائق ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی مشارکت نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9961
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2247 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8175»