الفتح الربانی
كتاب التيمم— تیمم کے ابواب
بَابٌ فِي وُجُوبِ التَّيَمُّمِ عَلَى النُّفَسَاءِ وَالْحَائِضِ وَالْجُنُبِ إِذَا فُقِدَ الْمَاءُ وَإِنْ مَكَثُوا أَشْهُرًا باب: پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
حدیث نمبر: 996
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَجْنَبَ رَجُلَانِ فَتَيَمَّمَ أَحَدُهُمَا فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ الْآخَرُ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبْ عَلَيْهِمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طارق بن شہابؓ کہتے ہیں: دو آدمیوں کو جنابت لاحق ہو گئی، ان میں سے ایک نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور دوسرے نے نماز نہ پڑھی، پس جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی پر عیب نہیں لگایا۔