الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُفْرَدَاتِ باب: مفردات کا بیان
حدیث نمبر: 9959
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اس طرح نہ کہے کہ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، بلکہ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے لَقِسَتْ نَفْسِیْ کہے۔
وضاحت:
فوائد: … خَبُثَتْْ اور لَقِسَتْ دونوں کے لغوی معانی ایک ہی ہیں، بظاہر انسان کے لیے اچھی بات نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خَبُثَتْْ کا لفظ استعمال کرے اور یہ آداب کا ایک طریقہ ہے کہ اچھے الفاظ استعمال کیے جائیں۔
ان دونوں الفاظ کے معانییہ ہیں: جی متلانا، جی بھاری ہونا، طبیعت سست ہونا،ردی اور خراب ہونا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کو مہذب الفاظ بیان کرنے چاہئیں، تاکہ مقصد بھی پورا ہو جائے اور تہذیب بھی برقرار رہے۔
ان دونوں الفاظ کے معانییہ ہیں: جی متلانا، جی بھاری ہونا، طبیعت سست ہونا،ردی اور خراب ہونا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کو مہذب الفاظ بیان کرنے چاہئیں، تاکہ مقصد بھی پورا ہو جائے اور تہذیب بھی برقرار رہے۔