حدیث نمبر: 9958
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فِي الدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے برا کام کیا، اس کو دنیا میں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … درج ذیل حدیث سے اس حدیث کا مفہوم واضح ہو گا: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: لَمَّا نَزَلَ {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی
الْمُسْلِمِینَ، فَشَکَوْا ذٰلِکَ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَفِی کُلِّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی الشَّوْکَۃَیُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃَیُنْکَبُہَا۔)) … جب یہ آیت نازل ہوئی {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا کام کرے گا، اس کی سزا دیجائے گی۔) تو مسلمانوں پر شاق گزرا اورانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام امور میں میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر ڈٹے رہو، مومن کی ہر آزمائش میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا چبھ جائے یا کوئی مشکل پیش آجائے۔
(جامع ترمذی: ۲۹۶۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9958
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 3039 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23»