الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُفْرَدَاتِ باب: مفردات کا بیان
حدیث نمبر: 9957
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ أَوِ الذُّبَابِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی حرام کیا، اس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ تم میں سے لوگ اس پر جھانکے گے، خبردار! میں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تم کو روکتا ہوں تاکہ تم اس طرح آگ میں نہ گرو، جیسے پتنگے اور مکھیاں آگ میں گرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے لگتا ہے جیسے بزور آگ میں گھسنا چاہتے ہیں، لیکن رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بچانا چاہتے ہیں۔