حدیث نمبر: 9954
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔

وضاحت:
فوائد: … پورا شعر یوں ہے: سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ … (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9954
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 712، والنسائي في الكبري : 10834 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24524»