الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي شِعْرِ لَبِيْدِ وَأُمَيَّةَ بْنِ أَبِى الصَّلْتِ باب: لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ الشَّرِيدُ كُنْتُ رَدِيفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ ابْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ أَنْشِدْنِي فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لِي كُلَّمَا أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا إِيهْ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ قَالَ ثُمَّ سَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَكَتُّ۔ (دوسری سند) سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے امیہ بن ابی صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سناؤ۔ پس میں نے ایک شعر پڑھا، جب بھی میں ایک شعر سے فارغ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور سناؤ۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سو اشعار سنا دیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور میں بھی خاموش ہو گیا۔