الفتح الربانی
كتاب التيمم— تیمم کے ابواب
بَابٌ فِي وُجُوبِ التَّيَمُّمِ عَلَى النُّفَسَاءِ وَالْحَائِضِ وَالْجُنُبِ إِذَا فُقِدَ الْمَاءُ وَإِنْ مَكَثُوا أَشْهُرًا باب: پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
عَنْ نَاجِيَةَ الْعَنَزِيِّ قَالَ: تَدَارَى عَمَّارٌ (بْنُ يَاسِرٍ) وَعَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي التَّيَمُّمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ مَكَثْتُ شَهْرًا لَا أَجِدُ فِيهِ الْمَاءَ لَمْ أَصَلِّ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ: ((إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ التَّيَمُّمُ))ناجیہ عنزی کہتے ہیں: تیمم کے سلسلے میں سیدنا عمار بن یاسر ؓاور سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکا ایک دوسرے سے اختلاف ہو گیا، سیدنا عبد اللہ نے کہا: اگر مجھے ایک ماہ تک ٹھہرنا پڑے اور پانی نہ ملے تومیں تو نماز نہیں پڑھوں گا۔ سیدنا عمارؓ نے ان سے کہا: کیا تم کو یاد ہے کہ جب میں اور تم اونٹوں میں تھے اور مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے میں چوپائے کی طرح مٹی میں لیٹا تھا، پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کیے کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف تجھے تیمم کافی تھا۔