الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشَّعْرِ لِمَصْلَحَةِ شَرْعِيَّةٍ باب: شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 9947
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ وَمَا رَكِبْتُ إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا وَتَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں تریاق پی لوں گا اور تمیمہ لٹکا لوں گا یا اپنی طرف سے شعر کہہ لوں گا تو پھر میں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں اور کس چیز پر سوار ہو رہا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … تریاق وہ معجون اور دوا ہوتی ہے، جو زہر کے اثر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس کی مختلف قسمیں ہوتی ہے، بعض قسموں میں سانپ کا گوشت اور شراب وغیرہ بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض قسموں میں صرف جائز چیزیں مستعمل ہوتی ہیں۔
اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔
اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔