الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشَّعْرِ لِمَصْلَحَةِ شَرْعِيَّةٍ باب: شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 9944
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ حَيْنَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَكَيْفَ تَرَى فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں (مذمت والی آیات) نازل کیں تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں جو کچھ نازل کیا ہے، آپ اس کو جانتے ہیں، اب آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان، دونوں کے ذریعے جہاد کرتا ہے۔