الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشَّعْرِ لِمَصْلَحَةِ شَرْعِيَّةٍ باب: شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 9943
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحَ النَّبْلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ شعروں کے بارے میں جوکچھ نازل کرنا تھا، وہ تو کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! گویا کہ تم ان پر تیر برسا رہے ہو۔