الفتح الربانی
كتاب التيمم— تیمم کے ابواب
بَابٌ فِي وُجُوبِ التَّيَمُّمِ عَلَى النُّفَسَاءِ وَالْحَائِضِ وَالْجُنُبِ إِذَا فُقِدَ الْمَاءُ وَإِنْ مَكَثُوا أَشْهُرًا باب: پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
حدیث نمبر: 994
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَكُونُ فِي الرَّمْلِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ فَيَكُونُ فِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ فَمَا تَرَى؟ قَالَ: ((عَلَيْكَ بِالْتُّرَابِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو ، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں چار پانچ پانچ مہینوں تک صحراء میں ہوتا ہوں اور ہم میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگ بھی ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو مٹی کو لازم پکڑ۔