الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي االتَّرْهِيْبِ مِنَ الشَّعْرِ إِنْ كَانَ فِيهِ فحش أَوْ كَذِبُ أَوِ انْشِغَالُ عَنِ اللَّهِ باب: بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9939
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرج مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے آ گیا، جو شعر گا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پکڑ لو اس شیطان کو، یا فرمایا: روک دو اس شیطان کو، اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ یہ آدمی کافر ہو یا اس کے اشعار قابل مذمت ہوں۔