الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ تَشْقِيقِ الْكَلَامِ وَالتَّشَدُّقِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي الْبَيَانِ فِي الْقَوْلِ باب: باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ هَشَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ لَمْ يَنْبَسِطْ إِلَيْهِ كَمَا انْبَسَطَ إِلَى الْآخَرِ وَلَمْ يَهَشَّ لَهُ كَمَا هَشَّ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَأْذَنَ فُلَانٌ فَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ثُمَّ هَشَشْتَ لَهُ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَا قُلْتَ وَلَمْ أَرَكَ صَنَعْتَ بِهِ مَا صَنَعْتَ لِلْآخَرِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنِ الُّقِيَ لِفُحْشِهِ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ خوشی اور بے تکلفی سے پیش آئے، پھر وہ آدمی چلا گیا، اتنے میں ایک دوسرا آدمی آ گیا، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنے خاندان کا بہترین آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ نہ اس طرح بے تکلفی سے پیش نہ آئے، جیسے پہلے سے آئے تھے اور نہ اس کے ساتھ خوش ہوئے، جب وہ یہ آدمی بھی چلا گیا تو میں (عائشہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فلاں آدمی نے آپ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اس کو خاندان کا برا آدمی قرار دیا، لیکن پھر اس کے ساتھ خوش اور بے تکلفی سے پیش آئے اور فلاں آدمی کے بارے میں تبصرہ تو اچھا کیا، لیکن اس کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا، جو پہلے سے کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے شر سے بچا جاتا ہے۔
۲۔ خلافِ شرع امور کو روکنا اور برائیوں کے مرتکب کو راہِ راست پر لانے کے لیے مدد حاصل کرنا: مثلا برے آدمی کی برائی کا کسی ایسے آدمی کے سامنے تذکرہ کرنا، جس کو غالب گمان کے مطابق اسے اس برائی سے روکنے پر قدرت حاصل ہو۔
۳۔ فتوی طلب کرنا: جیسے کوئی مظلوم کسی مفتی کے پاس جا کر کہے کہ میرے باپ یا بھائی وغیرہ نے مجھ پر یوں ظلم کیا ہے، کیا اسے یہ حق پہنچتا ہے اور میرے حق میں شریعت کا کیافیصلہ ہے؟
۴۔ مسلمانوں کی خیرخواہی کرنا: جیسے سند کے راویوں پر جرح کرنا،کسی مسئلہ میں گواہی دینے والے فاسق گواہوں کے فسق و فجور کی وضاحت کر دینا۔
۵۔ جو آدمی کھلم کھلا فسق و فجور اور بدعت کا ارتکاب کر رہا ہو، جیسے کوئی علانیہ شراب نوشی کر رہا ہو یا ظلماً ٹیکس وصول کر رہا ہو یا باطل کاموں کی سرپرستی کر رہا ہو، وغیرہ، وغیرہ۔ ایسے لوگوں کے جرائم بیان کرنا جائز ہے تاکہ ان کا ازالہ کیا جا سکے۔
۶۔ معروف نام سے پکارنا: مفاہیم و معانی کے اعتبار سے کوئی لقب اچھا نہ ہو، لیکن اگر کوئی آدمی اس لقب کے ساتھ مشہور ہو گیا ہو تو اس لقب کے ساتھ اسے پکارنا جائز ہے۔ جیسے: اعمش (چندھا)، اعرج (لنگڑا)۔ لیکن توہین و تنقیص کا ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ (ریاض الصالحین: باب بیان مایباح من الغیبۃ)
اس باب کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو غیبت کی مثال پیش کی ہے، یہ جواز کی کون سی صورت سے متعلق ہے؟ امام بخاری کے استدلال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی ظاہری حالت سے دھوکہ کھا جائیں۔ معلوم ہوا کہ جو شخص برے کردار کا حامل ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس جائیں گے، جس سے ان کے دین اور دنیا دونوں یا کسی ایک کا نقصان ہو جائے گا، ایسے شخص کی غیبت کرنا جائز ہو گی۔ اس اعتبار سے یہ جواز کی چوتھی صورت معلوم ہوتی ہے۔
اوریہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس برے آدمی کا اس انداز میں تذکرہ کر کے اس میں پائے جانے والی برائی کی قباحت و شناعت بیان کرنا چاہتے ہوں، تاکہ دوسرے مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندازِ غیبت سے اس برائی کی سنگینی کو بھانپ لیں اور عبرت حاصل کریں اور اس بدی سے محفوظ رہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وہ نیک آدمییہ انداز اختیار کر سکتا ہے، جس کا اس قسم کا طعنہ لوگوں کے لیے باعث ِ عبرت ہو اور ان کو فکر مند کر دینے والا ہو۔