حدیث نمبر: 9934
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ وَقَالَ مَرَّةً رَجُلٌ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَ أَيْ عَائِشَةُ شَرُّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ النَّاسُ أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ (وَفِي لَفْظٍ) إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ أَوْ شَرَّ النَّاسِ الَّذِي يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ شَرِّهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اسے دیکھ کر) فرمانے لگے: اس آدمی کو اجازت دے دو، یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے۔ پھر جب وہ اندر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ساتھ نرم برتاؤ کیا، جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے تو آپ نے جو کچھ کہا وہ کہا، پھر اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا،(ان دو قسم کے رویوں کی کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت والے دن مرتبہ کے اعتبار سے بدترین لوگ وہ ہوں گے کہ جن کے شرّ سے بچنے کے لیے لوگ ان سے لاتعلق ہو جائیں۔ ایک روایت میں ہے: بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے شرّ سے بچنے کے لیے ان کی عزت کی جاتی ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9934
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6054، 6131، ومسلم: 2591 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24607»