الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ تَشْقِيقِ الْكَلَامِ وَالتَّشَدُّقِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي الْبَيَانِ فِي الْقَوْلِ باب: باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 9933
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک بپا نہیں ہو گی، جب تک ایسے لوگ نہ نکل آئیں، جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائے اپنی زبان سے کھاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ زبان کے ذریعے کمائی کرنے کو پیشہ بنا لیں گے اور تکلف کے ساتھ بڑھکیں مارتے ہوئے زبان کو ایسے چلائیں گے، جیسے چرتے وقت گائے کی زبان نظر آتی ہے۔