حدیث نمبر: 9932
عَنْ سُهَيْلِ بْنِ ذَرَاعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ أَوْ أَبَا مَعْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي قَالَ فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصَرٌ لَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ وَنَحْوًا مِنْ هَذَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا فَقُلْنَا خَصَّنَا اللَّهُ بِهِ أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَأَنْ فَعَلَ وَفَعَلَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا وَكَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معن بن یزیدیا سیدنا ابو معن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں جمع ہو جاؤ، جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے بتلانا۔ پس ہم سب سے پہلے جمع ہو گئے، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے، یہاں تک کہ ہمارے پاس بیٹھ گئے، پھر ہم میں سے ایک مقرر نے کلام کیا اور کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس سے پہلے کسی کی تعریف پر اقتصار نہیں ہے اور جس کی تعریف سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا، یا اس قسم کی بات کی، لیکن ہوا یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے ہو کر چلے گئے، ہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کیا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے اس اعتبار سے ہم کو خاص کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے اور اب یہ کچھ ہو گیا۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ چل پڑے،یہاں تک کہ اسی مقام میں یا اس کے قریب بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اب یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اس تعریف کو موجودہ وقت سے پہلے بنائے یا اس کے بعد، اور بیشک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں حکم دیئے، ہم سے کلام کیا اور ہمیں بعض امور کی تعلیم دی۔

وضاحت:
فوائد: … جس سے پہلے کسی کی تعریف پر اقتصار نہیں ہے اور جس کی تعریف سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ سے پہلے کسی کی تعریف کی جاتی ہے تو اس کی تعریف پر اقتصار نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ موضوع آگے بڑھے گا اور اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گے، کیونکہ وہ تعریف کا حقیقی مستحق ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جائے گی، تو اس سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی وجہ یہ تھی کہ اس متکلم نے کلام میں مبالغہ کیا اور حمد کو اس طرح بند کر دیا کہ اس کے نکلنے کی جگہ ہی نہیں رہی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے اس کا طریقہ بتلایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9932
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «بعضه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 1074 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15955»