الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ تَشْقِيقِ الْكَلَامِ وَالتَّشَدُّقِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي الْبَيَانِ فِي الْقَوْلِ باب: باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 9931
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ بَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اہل مشرق سے دو آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے اور انھوں نے ایسے انداز میں خطاب کیا کہ لوگ تعجب میں پڑ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں، بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بیان کی دو قسمیں ہیں: (۱) وہ بیان جس سے گفتگو کرنے والے کی مراد واضح ہو جائے، زبان کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ (۲) وہ بیان جس کے الفاظ کو اہتمام کے ساتھ خوبصورت بنایا جائے اور تکلف کے ساتھ بولا جائے، تاکہ سامعین کے دل خطیب کی طرف مائل ہو جائیں اور وہ اس کے فن پر حیران و ششدر ہو کر رہ جائیں، ایسا بیان قابل تعریف بھی ہو سکتاہے اور قابل مذمت بھی، اگر اس کے ذریعے حق کی تائید کی جائے اور لوگوں کو سچائی کی طرف لے جائے تو وہ قابل تعریف ہو گا، اور اگر اس کے ذریعے باطل کو رواج دیا جائے اور قبیح کو خوبصورت کر کے پیش کیا جائے تو وہ قابل مذمت ہو گا، بیچ میں خطیب کو یہ فکر بھی کرنا پڑے گی کہ آیا اس کے خطاب میں ریاکاری اور نمود و نمائش کی بدبو تو نہیں آ رہی۔