الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ تَشْقِيقِ الْكَلَامِ وَالتَّشَدُّقِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي الْبَيَانِ فِي الْقَوْلِ باب: باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَا فَتَكَلَّمَا ثُمَّ قَعَدَا وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمْ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلَامِ مِنَ الشَّيْطَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں مشرق کی طرف سے دو خطیب آدمی آئے، انھوں نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور پھر بیٹھ گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطیب سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کرنے کے بعد وہ بھی بیٹھ گئے، پس لوگوں کو ان کی گفتگو سے بڑا تعجب ہوا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! (طبعی انداز میں اور بغیر کسی تکلف اور تصنّع کے) اپنا مدّعا بیان کر دیا کرو، پس بیشک کلام کی شقیں نکالنا شیطان کی طرف سے ہے ۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔