الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ تَشْقِيقِ الْكَلَامِ وَالتَّشَدُّقِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي الْبَيَانِ فِي الْقَوْلِ باب: باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 9927
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا تَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ آدمیوں میں سے اس بلاغت جھاڑنے والے شخص کو سخت ناپسند کرتا ہے جو (منہ پھاڑ پھاڑ کر تکلف و تصنّع سے گفتگو کرتے ہوئے) اپنی زبان کو گائے کے جگالی کرنے کی طرح بار بار پھیرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تصنع کے ساتھ منہ بھر کر، رگیں پھلا کر، باچھیں کھول کر اور بڑھکیں مار مار کر بات کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، ایسے لوگ بال کی کھال اتارتے ہیں، لایعنی بحثیں کرتے ہیں، ماورائے عقل باتوں میں دخل دیتے ہیں، مبالغہ کرتے ہوئے فصاحت و بلاغت چھانٹتے ہیں اور سامعین و حاضرین سے داد وصول کرنے کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔ جبکہ شریعت ِ اسلامیہ سادگی، تواضع اور قدرتی انداز کو پسند کرتی ہے، شریعت کا تقاضا ہے کہ قول و فعل میں غلو نہ کیا جائے اور تمام معاملات سادگی کے ساتھ نبٹائے جائیں۔
قارئین کرام! شاید آپ اس بات میں ہمارے ساتھ موافقت کریں کہ تکلف و تصنع اور فصاحت و بلاغت نے دیرپا اثرات نہیں چھوڑے، فی الوقت سامعین سے بلّے بلّے وصول کر لینا اور لوگوں کو حیطۂ حیرت میں ڈال دیناتو ممکن ہے، لیکن خطابات کے ایسے انداز سے لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہمارے وطن کی زمین گواہ ہے کہ جو لوگ بظاہر متقی ہیں، سادہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنی تقریر کے عملی تقاضے پورے کرنے والے ہوتے ہیں، تو عوام الناس کو ان کی تقاریر سے استفادہ کرنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔
قارئین کرام! شاید آپ اس بات میں ہمارے ساتھ موافقت کریں کہ تکلف و تصنع اور فصاحت و بلاغت نے دیرپا اثرات نہیں چھوڑے، فی الوقت سامعین سے بلّے بلّے وصول کر لینا اور لوگوں کو حیطۂ حیرت میں ڈال دیناتو ممکن ہے، لیکن خطابات کے ایسے انداز سے لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہمارے وطن کی زمین گواہ ہے کہ جو لوگ بظاہر متقی ہیں، سادہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنی تقریر کے عملی تقاضے پورے کرنے والے ہوتے ہیں، تو عوام الناس کو ان کی تقاریر سے استفادہ کرنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔