الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْجِدَالِ وَالْمِرَاءِ باب: جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9924
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58]ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد گمراہ نہیں ہوتی، مگر اس طرح کہ وہ جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیںیا وہ؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (سورۂ زخرف: ۵۸)