حدیث نمبر: 9922
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ صُهَيْبًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد الحمید بن صیفی اپنے باپ اور وہ ان کے دادے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خشک کھجوراور روٹی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا اور کھا۔ پس اس نے کھانا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بیشک تیری آنکھ بیمار ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دوسرے کنارے سے کھا لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے۔

وضاحت:
فوائد: … ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((تَاْکُلُ تَمْرًا وَبِکَ رَمَدٌ۔)) … تو کھجور کھاتا ہے، جبکہ تیری آنکھ خراب ہے۔
خشک کھجور کو ذرا زور سے چبانا پڑتا ہے، جبکہ اس سے آنکھ کو تکلیف ہوتی ہے۔
دوسرے کنارے سے مراد دوسری طرف سے چبانا ہے، دراصل اس صحابی نے بے تکلفی سے بات کی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9922
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 3443 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23567»