الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ وَالتَّرْهِيبِ مِنَ الْكَذِبِ فيه باب: مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9919
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ بھی ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر بسا اوقات اور مخصوص مواقع پر میانہ روی کے ساتھ ہنسی مذاق کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا،لیکن اگر اس میں افراط اختیار کیا اور حد سے بڑھا جائے تو ایسا کرنے والوں کا رعب اور جمال ختم ہو جاتا ہے،دل پر مردہ پن غالب آ جاتا ہے، بیوقوفوں کو جرأت ملتی ہے اور نتیجہ شرّ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، کہنے والے نے کیا خوب کہا: أُھَازِلُ حَیْثُ الْھَزْلُ یَحْسُنُ بِالْفَتٰی وَاِنِّیْ اِذْ اَجِدُ الرِّجَالَ لَذُوْ جِدٍّ
میں اس وقت مذاق کر لیتا ہوں، جب نوجوان کو مذاق اچھا لگتا ہے۔ لیکن جب میں مردوں کو پاتا ہوں تو سنجیدگی والا ہوتا ہوں۔
بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسی مذاق کر رہے ہیں، لیکن اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچ کے دائرے سے نہیں نکلتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہوتاہے۔
میں اس وقت مذاق کر لیتا ہوں، جب نوجوان کو مذاق اچھا لگتا ہے۔ لیکن جب میں مردوں کو پاتا ہوں تو سنجیدگی والا ہوتا ہوں۔
بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسی مذاق کر رہے ہیں، لیکن اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچ کے دائرے سے نہیں نکلتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہوتاہے۔