حدیث نمبر: 9918
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضِحْكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ عَلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور پھر لوگوں کو گوز مار کر ہنسنے کے بارے میں وعظ کیا اور فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اس چیز پر کیوں ہنستا ہے ، جو وہ خود بھی کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … خاص طور پر جب کسی کی نادانستہ طور پر ہوا خارج ہو جائے، تو ہم مجلس ایسی سنجیدگی اختیار کریں کہ یوں لگے کہ ان کو اس حرکت کا علم ہی نہیں ہوا، تاکہ متعلقہ بندے کو شرمندگی نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2855 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16324»