الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ وَالتَّرْهِيبِ مِنَ الْكَذِبِ فيه باب: مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9916
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ يَرْفَعُهَا إِنَّ الْعَبْدَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی ایسی بات کر جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے پھسل کر آگ میں اتنی دوری تک چلا جاتا ہے، جتنی مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگ مذاق میں ایک دوسرے کو غلیظ گالیاں نکالتے ہیں، ایک دوسرے کو عیسائی،یہودی اور کراڑ تک کہہ دیتے ہیںاور سنتوں کا مذاق کرتے ہیں۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی اختیار کرے اور شریعت نے تفریح کے اسباب کی جتنی اجازت دی ہے، ان ہی پر اکتفا کرے
مسلمان کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی اختیار کرے اور شریعت نے تفریح کے اسباب کی جتنی اجازت دی ہے، ان ہی پر اکتفا کرے