حدیث نمبر: 9912
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا وَأَنَا صَبِيٌّ قَالَ فَذَهَبْتُ أَخْرُجُ لِأَلْعَبَ فَقَالَتْ أُمِّي يَا عَبْدَ اللَّهِ تَعَالَ أُعْطِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ قَالَتْ أُعْطِيهِ تَمْرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذْبَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے، میں اس وقت بچہ تھا، جب میں کھیلنے کے لیے جانے لگا تو میری ماں نے کہا: اے عبد اللہ! ادھر آ، میں تجھے کچھ دینا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں اس کو کھجور دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے اس کو کچھ نہ دینا ہوتا تو یہ تیرا ایک جھوٹ لکھ لیا جاتا۔

وضاحت:
فوائد: … ماں کی گودبچے کی پہلی تعلیم گاہ اور تربیت گاہ ہے، اسی ادارے میں فطرتیں سنورتییا بگڑتی ہیں، اگرچہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فطرت کے تحفظ کے لیے اتنے سخت اقدامات کئے کہ جھوٹ کی حقیقت سے ناواقف بچے کے ساتھ جھوٹ بولنے کو بھی جرم قرار دیا، اسی فطرت کو سالم رکھنے کے لیے بچے کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، غور فرمائیں کہ ہمارے ہاں دس سال کی عمر کے بچے پر نماز فرض نہیں ہوتی، کیونکہ وہ نابالغ ہوتا ہے، لیکنیہ اس کی فطرت کے حفاظتی اقدامات کے تقاضے ہیں کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس برس کی عمر کے بعد بچے کو نماز کی عدمِ ادائیگی پر زدو کوب کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہمیں چائیے کہ ان نبوی سنہری اصولوں کی روشنی میں اپنے بچوں کے قلوب و اذہان کی تعمیر کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9912
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4991 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15793»