الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بابٌ فِي خِصَالِ الإِيمَانِ وَآيَاتِهِ باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
حدیث نمبر: 99
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ بَدَلَ قَوْلِهِ أَيُّ الْإِسْلَامِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: ”کون سے مسلمان افضل ہیں؟“
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث مسلمان کی عظمت و حرمت پر دلالت کرتی ہے‘سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُہٗ وَماَلُہٗ وَدَمُہٗ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا، بِحَسْبِ امْرِیئٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ یَحْتَقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ)) … ہر مسلمان کی عزت‘ مال اورخون دوسرے مسلمان پر حرام ہے‘ تقوی یہاں ہے اورکسی آدمی کیلئے برائی میں سے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر اور کمتر خیال کرے۔ (جامع ترمذی: ۱۹۲۷)
کسی مسلمان کی زندگی کا کمال یہ ہے کہ جہاں وہ حقوق اللہ کی ادائیگی کا خیال رکھتا ہے‘ وہاں وہ اللہ کے بندوں کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانے سے نہ صرف باز رہے بلکہ ان کی عزتوں اور حرمتوں کی حفاظت بھی کرے‘ سیدنا ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ اَخِیْہِ رَدَّ اللّٰہُ عَنْ وَجْھِہٖ النَّارَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) … جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کیا‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے جہنم کی آگ دور کر دے گا۔ (جامع ترمذی: ۱۹۳۱) جو آدمی حقوق العباد کے سلسلے میں محتاط نہیں رہتا، اس کو قیامت والے دن بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
کسی مسلمان کی زندگی کا کمال یہ ہے کہ جہاں وہ حقوق اللہ کی ادائیگی کا خیال رکھتا ہے‘ وہاں وہ اللہ کے بندوں کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانے سے نہ صرف باز رہے بلکہ ان کی عزتوں اور حرمتوں کی حفاظت بھی کرے‘ سیدنا ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ اَخِیْہِ رَدَّ اللّٰہُ عَنْ وَجْھِہٖ النَّارَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) … جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کیا‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے جہنم کی آگ دور کر دے گا۔ (جامع ترمذی: ۱۹۳۱) جو آدمی حقوق العباد کے سلسلے میں محتاط نہیں رہتا، اس کو قیامت والے دن بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔