الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَالتَّعْلِيطِ فِي ذَلِكَ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9899
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَهُوَ فِي النَّارِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، پس وہ آگ میں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنا عام جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شریعت سے متعلقہ کلام وحی ہوتا ہے، جو دراصل اللہ تعالیٰ کی منشا ہوتی ہے، کیونکہ شریعت سازی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، لیکن جب جھوٹی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کی جائے گی تو یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے مترادف جرم ہو گی اور اس سے شریعت سازی لازم آئے گی، جو کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ بہرحال نبی کریم پر جھوٹ بولنے سے کئی مفاسد لازم آتے ہیں۔