الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
فَضْلُ فِيْمَا يُبَاحُ مِنَ الْكَذِبِ باب: ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا أَوْ يَقُولُ خَيْرًا)) وَقَالَتْ لَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ فِي الْحَرْبِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومِ بِنْتُ عُقْبَةَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا نہیں ہے ، جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے اور خیر کو آگے پہنچاتا ہے یا اچھی بات کرتا ہے۔ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو گفتگو میں جھوٹ بولنے کی رخصت دی ہو، ما سوائے تین امور کے، جنگ میں، لوگوں کے ما بین اصلاح کرتے وقت اور خاوند کااپنی بیوی اور بیوی کا اپنے خاوند سے گفتگو کرتے وقت۔ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا ان مہاجر خواتین میں سے تھیں، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔