الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
فَضْلُ فِيْمَا يُبَاحُ مِنَ الْكَذِبِ باب: ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ كُلُّ الْكَذِبِ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ رَجُلٌ كَذَبَ عَلَى امْرَأَتِهِ لِيُرْضِيَهَا أَوْ رَجُلٌ كَذَبَ فِي خَدِيعَةِ حَرْبٍ أَوْ رَجُلٌ كَذَبَ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا))۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ایمان والو! تم لوگوں کو کون سی چیز اس طرح لگاتار جھوٹ بولنے پر آمادہ کرتی ہے، جیسے پتنگے لگاتار آگ میں گرنا شروع ہو جاتے ہیں، ابن آدم پر اس کے ہر جھوٹ کو لکھ لیا جاتا ہے، ما سوائے تین امور کے، (۱) وہ خاوند جو اپنی بیوی سے جھوٹ بولتا ہے، تاکہ اس کو راضی رکھے، (۲) وہ آدمی جو جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ بولتا ہے اور (۳) وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔
حدیث ِ مبارکہ میں تین مقامات پر جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے، بسا اوقات اگر ان تین مقامات پر خلافِ واقعہ بات نہ کی جائے تو بہت زیادہ نقصان ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
معاشرے کو باہمی بغض و عناد اور جنگ و جدل سے بچانے کے لیے صلح کروانا ضروری ہے، لیکن صلح کروانے والے افراد جانتے ہیں کہ دوریوں کو قربتوں میں بدلنے کے لیے اور بغض و عناد کا زنگ اتارنے کے لیے جھوٹ بولنا پڑتا ہے، ہر فریق کے سامنے اس کی طرفداری کرنا پڑتی ہے، ہر فریق کے سامنے دوسرے فریق کے حوالے سے خلافِ حقیقت باتیں کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن شریعت نے عظیم مقصد کو پانے کے لیے چھوٹے گناہ کو جائز قرار دیا ہے۔
یہی معاملہ جنگ کا ہے کہ کہاں جانا ہے؟ کیوں جانا ہے؟ کب جانا ہے؟ کتنا ساز و سامان لے کر جانا ہے؟ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اگر سب حقائق واضح کر دیے جائیں تو دشمنانِ اسلام جاسوسی کے ذریعے اسلام اور اہل اسلام دونوں کو زبردست مالی اور جانی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور دوسری بات یہ بھی کہ اگر ساری حقیقت کھول دی جائے تو بعض مجاہدین بزدلی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
رہا مسئلہ میاں بیوی کا، تو ان کے گھر کے معاملات کی اہمیت کسی مملکت کے امور سے کم نہیں ہے، معاشرتی زندگی میں ایسے موڑ بھی آ جاتے ہیں،جہاں ازدواجی تعلق برقرار رکھنے یا خوشگوار رکھنے یا اولاد کی خاطر خلاف ِ واقعہ بات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تاہم ان رخصتوں کا مطلبیہ نہیں کہ علی الاطلاق جھوٹ بولنے کی رخصت نکال لی جائے۔
جھوٹ بہرحال جھوٹ ہے اور کبیرہ گناہ ہے، جواز کی صورتیں پیدا کرنے والوں کو محتاط رہنا چاہئے۔ واللہ اعلم
گھر وں کے سربراہوں کو متوجہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے، اس رخصت سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ میاں بیوی کے آپس کے تعلقات کا اچھا ہونا انتہائی ضروری ہے، وگرنہ گھر کے ماحول میں فساد رہے گا اور بچے صحیح تربیت سے محروم رہیں گے۔