حدیث نمبر: 9892
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي زَوْجًا وَلِي ضَرَّةٌ وَإِنِّي أَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِي أَقُولُ أَعْطَانِي كَذَا وَكَسَانِي كَذَا وَهُوَ كَذِبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ہے اور میری ایک سوکن بھی ہے، میں اپنے خاوند کے بارے میں یوں اظہار کرتی ہوں کہ اس نے مجھے فلاں چیز دی ہے، اس نے مجھے اس طرح کا کپڑا لا کر دیا ہے، تو کیایہ جھوٹ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو جو چیز نہ دی گئی ہو، لیکن پھر بھی وہ اس کے دیئے جانے کا اظہار کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … جھوٹ کے دو کپڑے پہننے سے مراد یہ ہے کہ گویا جھوٹ نے اس بندے کے سارے بدن کو ڈھانپ لیا ہے، وہ اپنے حق میں ایسی چیز کا اظہار کر رہا ہے، جو اس کی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9892
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25854»