حدیث نمبر: 9887
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ تَكَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلِمَةً فِيهَا مَوْجِدَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تُقِرَّنِي نَفْسِي أَنْ أَخْبَرْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَوَدِدْتُ أَنِّي افْتَدَيْتُ مِنْهَا بِكُلِّ أَهْلٍ وَمَالٍ فَقَالَ قَدْ آذَوْا مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّ نَبِيًّا كَذَّبَهُ قَوْمُهُ وَشَجُّوهُ حِينَ جَاءَ هُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ فَقَالَ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) ایک انصاری آدمی نے ایسی بات کی کہ جس سے پتہ چل رہا تھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی بات محسوس کی ہوئی ہے، (بات اتنی سخت تھی کہ) میرا نفس مجھ پر قابو نہ پا سکا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کر دیا، میں نے تو چاہا کہ اس بات کے فدیے میں اپنا سارا اہل و مال قربان کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ ایذا دی، لیکن انھوں نے صبر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ ایک نبی کو اس کی قوم نے جھٹلایا اور جب وہ اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو زخمی کر دیا، اب وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9887
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4331»