الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ النَّمِيمَةِ باب: چغلخوری سے ترہیب کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ قَالَ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَالٌ فَقَسَمَهُ قَالَ فَمَرَرْتُ بِرَجُلَيْنِ وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ فَتَثَبَّتُّ حَتَّى سَمِعْتُ مَا قَالَا ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا وَإِنِّي مَرَرْتُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ وَهُمَا يَقُولَانِ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ دَعْنَا مِنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ صَبَرَ۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ مال لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو تقسیم کیا، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا، ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! اس تقسیم سے محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا ارادہ نہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے اور نہ آخرت کا گھر، پھر میں نے مزید توجہ کی اور ان کی باتیں سن لیں، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے توہمیں یہ فرمایا تھا کہ کوئی آدمی میرے کسی صحابی کی قابل اعتراض بات مجھ تک نہ پہنچائے۔ لیکن اب بات یہ ہے کہ میں فلاں فلاں کے پاس سے گزرا اور وہ اس طرح کی باتیں کر رہے تھے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوڑ دو ہم کو، پس موسی علیہ السلام کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔