حدیث نمبر: 9877
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ حَكَيْتُ لِلنَّبِيِّ رَجُلًا فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنِّي حَكَيْتُ رَجُلًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةٌ وَقَالَ بِيَدِهِ (يَعْنِي الرَّاوِيَ) كَأَنَّهُ يَعْنِي قَصِيرَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ مَزَجْتِ (وَفِي لَفْظٍ تَكَلَّمْتِ) بِكَلِمَةٍ لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ مَزَجَتْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک مرد کی نقل اتارنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقالی کروں، اگرچہ اس کے عوض میں مجھے بہت کچھ دیا جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک صفیہ تو چھوٹے قد والی خاتون ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تم نے ایسی بات کی ہے کہ اگر اس کو سمندر کے پانی کے ساتھ ملا دیا جائے تو وہ مل جائے گی (یعنی بات کی گندگی سمندر کے پانی پر غالب آکر اسے خراب کر دے گی)۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حقارت آمیز انداز میں ایک عورت کی نقل اتارنا چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے کوئی خوشی نہیں ہوتی کہ آپ کسی کے عیب کا تذکرہ کریںیا از راہِ تنقیص کسی کے فعل یا قول کی نقالی کریں۔
امام نووی نے کہا: اس حدیث میں غیبت سے سب سے زیادہ ڈانٹا گیا ہے، میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قدر مذمت کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9877
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26075»