الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغَيْبَةِ وَالْبُهتِ باب: غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَهُ قَالَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے بھائی کے وہ عیوب بیان کرنا، جو اس میں ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں اپنے بھائی کے بارے میں جو کچھ کہوں، اگر وہ عیوب اس کے اندر پائے جاتے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ تو کہہ رہا ہے، اگر وہ چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں تو تو نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ نقائص اس میں نہیں ہیں تو تو نے اس پر بہتان لگایا ہے۔
اس میں غیبت اور بہتان دونوں کے معنی و مفہوم اور شناعت و قباحت کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کامیابی اور کامرانی کے لیے ہمارے سامنے ایک معیار رکھ دیا ہے کہ ہم کسی پر تبصرہ کرنے لگیں تو پہلے غور کریں کہ آیا اُس آدمی کی موجودگی میں یہ گفتگو کی جا سکتی ہے، اگر نہیں کی جا سکتی ہے تو فوراً رک جانا چاہئے۔
اگر اس روایت کے طرق اور سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ لَیْسَ کے الفاظ اس حدیث کا حصہ نہیں ہیں،یہ کسی راوی سے کوئی سہو ہو گیا ہے، ترجمہ میں اس لَیْسَ کے لفظ کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔