الفتح الربانی
كتاب التيمم— تیمم کے ابواب
بَابٌ فِي سَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ التَّيَمُّمِ وَصِفَتِهِ باب: تیمم کی مشروعیت کے سبب اور اس کے طریقے کا بیان
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَمولائے ابن عباس عمیر کہتے ہیں: میں اور مولائے میمونہ عبد اللہ بن یسار گئے اور سیدنا ابو جہیم بن حارث انصاری پر داخل ہوئے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بئرِ جمل کی طرف سے آ رہے تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا اور پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔