حدیث نمبر: 9869
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فَقْمَيْهِ وَفَرْجِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … کفر وشرک، کذب بیانی و دروغ گوئی، لہو و لغویات، گالی گلوچ، سب و شتم، چغلی و غیبت، دوسروں کی توہین، بڑوں کی گستاخی، چھوٹوں سے کرختگی و سختی، والدین کا دل دکھانا، بے راہ روی و بد کاری کی راہ ہموار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری، اس قسم کے سینکڑوں جرائم کا تعلق زبان سے ہے، یہ زبان ہی ہے جس کی وجہ سے صاحب ِ زبان کو کئی مجالس میں ندامت و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ زبان ہی ہے جو باوقار اور سنجیدہ انسانوں کی عظمت و وقار کو مجروح کر دیتی ہے، بہرحال جو بندہ اپنی زبان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا، وہ کئی برائیوں سے اجتناب کرنے اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے سے محروم رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ خطرے والی چیز، جس کا آپ کو مجھ سے اندیشہ ہو، کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زبان کا تعین کیا۔ (ترمذی)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9869
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 7275، والحاكم: 4/ 358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19788»