الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ كَثْرَةِ الْكَلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الصَّمَتِ باب: کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
حدیث نمبر: 9868
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُحَيْمٍ عَنْ أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَّارِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قِيدُ ذِرَاعٍ فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ بنتِ ابی حکم غفاری رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی جنت کے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایسی (بدترین) بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے صنعاء تک جنت سے دور ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … زبان کی حفاظت مومن کا عظیم وصف ہے، کسی انسان کی شخصیت کا پتہ دینے کے لیے اس کی زبان ہی کافی ہے۔