الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ كَثْرَةِ الْكَلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الصَّمَتِ باب: کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
حدیث نمبر: 9863
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَعْرَابِيًّا بِخِصَالٍ مِنْ أَنْوَاعِ الْبِرِّ (فِيهَا) وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدّو کو نیکی کی مختلف انواع کے بارے میں بتلایا، ان میں یہ چیزیں بھی تھیں: اور تو نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر، پس اگر تجھ کو ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو بند کر لے، ما سوائے خیر والی باتوں کے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا مطلب یہ ہوا کہ سب سے آسان اور کم از کم نیکی کی صورت یہ ہے کہ زبان کو شرّ سے محفوظ رکھا جائے۔