الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ كَثْرَةِ الْكَلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الصَّمَتِ باب: کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
حدیث نمبر: 9861
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ (وَفِي لَفْظٍ مُرْنِي فِي الْإِسْلَامِ بِأَمْرٍ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ) قَالَ قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ (وَفِي لَفْظٍ آمَنْتُ بِاللَّهِ) ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ (وَفِي لَفْظٍ مَا أَكْبَرُ) مَا تَخَافُ عَلَيَّ (وَفِي لَفْظٍ فَأَيُّ شَيْءٍ أَتَّقِي) قَالَ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ هَذَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام سے متعلقہ ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں کہ میں اس کو تھام لوں اور اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کہہ کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ ڈر کس چیز پر ہے، ایک روایت میں ہے: پس میں کس چیز سے بچ کر رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا! اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: یہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر پرکھنے کا مزاج شرعی ہو تو یہ حقیقت مشاہدہ شدہ ہو گی کہ اس وقت ہر آدمی کو اس کی زبان کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا ہے، رہی سہی کمی موبائلز کے پیکجز نے پوری کر دی ہے۔ ہر ایک نے گلے شکوے کرنے پر توجہ دھری ہوئی ہے، کوئی اپنا محاسبہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔