حدیث نمبر: 9858
عَنْ تَمِيمِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى بَنِي زَمْعَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا مَا هُمَا ثُمَّ قَالَ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الثَّالِثَةُ أَجْلَسَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ يُبَشِّرُنَا فَتَمْنَعُهُ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ فَقَالَ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور پھر فرمایا: لوگو! دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے محفوظ کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں یہ نہ بتلائیے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اسی آدمی نے وہی بات کہی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسر بار ارشاد فرمایا تو صحابہ نے اس آدمی کو بٹھایا اور اس سے کہا: تجھے نظر نہیں آ رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں، لیکن تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک رہا ہے، اس نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ توکل کر کے مزید عمل ترک کر دیں گے۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، ایک دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دوسری دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز۔

وضاحت:
فوائد: … زبان نہ صرف انسان کے احترام و اکرام اور ذلالت و رسوائی کا معیار قرار پا چکی ہے، بلکہ اخروی کامیابی و کامرانی اور ناکامی ونامرادی کا دارو مدار بھی اسی پر ہے، اس حدیث ِ مبارکہ میں زبان کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر حفاظت ِ زبان کا اہتمام نہ کیا گیا تو یہ سارے اعمال کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے اور انسان کو جنت میں داخل کرنے کی بجائے آتش ِ دوزخ کا ایندھن بنا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نجات کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصولِ نجات کے لیے ان تین امور کا ذکر کیا: ((أَمْسِکْ عَلَیْکَ لِسَانَکَ وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ وَابْکِ عَلٰی خَطِیْئَتِکَ۔)) (ترمذی) … اپنی زبان کو قابو میں رکھو، تمہارا گھر تم کو اپنے اندر سموئے رکھے اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو۔
معلوم ہوا کہ لوگوں سے بلاضرورت زیادہ میل جول اور ان سے بے مقصد گپ شب میں انسان کے دین کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے زیادہ اختلاط کی بجائے گھر میں رہا جائے اور اپنا وقت ذکرو اذکار، غور و فکر اور اہل وعیال کی خدمت میں صرف کیا جائے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۷۷)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 9858
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد فيه تميم بن يزيد، وھو مجھول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23453»