الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ كَثْرَةِ الْكَلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الصَّمَتِ باب: کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
عَنْ تَمِيمِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى بَنِي زَمْعَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا مَا هُمَا ثُمَّ قَالَ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الثَّالِثَةُ أَجْلَسَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ يُبَشِّرُنَا فَتَمْنَعُهُ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ فَقَالَ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور پھر فرمایا: لوگو! دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے محفوظ کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں یہ نہ بتلائیے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اسی آدمی نے وہی بات کہی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسر بار ارشاد فرمایا تو صحابہ نے اس آدمی کو بٹھایا اور اس سے کہا: تجھے نظر نہیں آ رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں، لیکن تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک رہا ہے، اس نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ توکل کر کے مزید عمل ترک کر دیں گے۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، ایک دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دوسری دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز۔
معلوم ہوا کہ لوگوں سے بلاضرورت زیادہ میل جول اور ان سے بے مقصد گپ شب میں انسان کے دین کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے زیادہ اختلاط کی بجائے گھر میں رہا جائے اور اپنا وقت ذکرو اذکار، غور و فکر اور اہل وعیال کی خدمت میں صرف کیا جائے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۷۷)۔