الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ مَوَاقِعِ الشُّبُهِ وَمَوَاطِنِ الرِّيْبَةِ باب: شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا أَوْ قَالَ شَيْئًا۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آئی، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کیں اور جب اٹھ کر جانے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مجھے واپس چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے، میرا گھر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس تھا، ہمارے پاس سے دو انصاریوں کا گزر ہوا، جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انھوں نے جلدی سے آگے سے گزرنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو کہ میری اپنی بیوی ہے)۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شرّ والی بات ڈال دے۔
اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیائے کرام کے بارے میں سوئے ظن رکھنا کفر ہے۔
ان احادیث سے سبق یہ ملتا ہے کہ مسلمان کو تہمت گاہ اور شک و شبہ والے مقام سے دور رہنا چاہیے، تاکہ کسی کو اس کے بارے میں سوئے ظن رکھنے کا موقع نہ ملے۔