حدیث نمبر: 9853
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ يَا فُلَانُ هَذِهِ امْرَأَتِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری بیوی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی کے بارے میں تو گمان ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے بارے میں تو میں کسی بد گمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے اندر خون کے چلنے کے مقامات میں گردش کر سکتا ہے، یا اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان بہت تیزی سے انسان کو وسوسہ میں ڈالنے میںکامیاب ہو جاتا ہے، بہرحال شیطان انسان کے اندر گھس کر اس کووسوسوں میں مبتلا کرتا ہے اور نافرمانی پر آمادہ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9853
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12620»