الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ مَوَاقِعِ الشُّبُهِ وَمَوَاطِنِ الرِّيْبَةِ باب: شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ يَا فُلَانَةُ يُعْلِمُهُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَظُنُّ بِي فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكَ الشَّيْطَانُ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی آپ کے پاس کھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو آواز دی: اے فلاں، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ یہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہے، اس نے آگے سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میرے بارے میں کوئی بدگمانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تیرے اندر گھس جائے (اور کوئی وسوسہ پیدا کر دے)۔