حدیث نمبر: 9851
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْغَيْتُ وَتَقَرَّبْتُ وَخَشِيتُ أَنْ لَا أَسْمَعَ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ مَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ أَوْ قَالَ مَحَارِمُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، امام شعبی کہتے ہیں: جب میں ان کو یہ کہتے ہوئے سنتا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تو میں اپنا کان لگاتا اور قریب ہو جاتااور ڈرتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی اور سے یہ الفاظ نہ سن سکوں کہ وہ کہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، البتہ ان کے بیچ میں مشتبہ امور ضرور ہیں، جس نے گناہ سے بچنے کے لیے مشتبہ چیز کو چھوڑ دیا، تو وہ واضح ہونے والے گناہ کو زیادہ چھوڑنے والا ہو گا اور جس نے مشکوک چیز پر جرأت کر دی تو قریب ہے کہ وہ حرام میں پڑ جائے، بیشک ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ جگہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ جگہ اس کی نافرمانیاں یا حرام کردہ امور ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … قرآن و حدیث کی روشنی میں حلال اور حرام امور بالکل واضح ہیں، البتہ بیچ میں کچھ ایسے امور ہیں کہ واضح طور پر جن کی حلت یا حرمت کا فیصلہ نہیں کیا سکتاہے، ان ہی کو مشتبہ امور کہتے ہیں، اس حدیث مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان امور سے بھی اجتناب کیا جائے، تاکہ آدمی حرام کاموں سے مکمل طور پر محفوظ رہے، جو آدمی ان شبہات سے بچے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر پائے گا اور جو ان کو جائز سمجھ لے گا، وہ نادم ہو گا اور فضائل سے محروم رہے گا۔
دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۰۴)، درج ذیل حدیث میں ایک مشتبہ چیز کا بیان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی کھجور کے بارے میں فرمایا: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ (صحیح بخاری: ۲۰۵۵)
حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے (جو صحیح بخاری وغیرہ میں موجود ہے۔ البتہ اس جگہ وہ حصہ درج نہیں ہوا) معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی اصلاح کا دارومدار دل پر ہے، لہٰذا دل کو پر خلوص رکھا جائے اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9851
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2051، ومسلم: 1599 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18574»