الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَالْحَادِمِ وَسَيِّدِهِ باب: خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9850
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ وَمَنْ خَبَّبَ عَلَى امْرِئٍ زَوْجَتَهُ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے امانت کی قسم اٹھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے، اسی طرح جس نے کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف اور کسی غلام کواس کے آقا کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امانت کے مختلف معانی ہیں، جیسے اطاعت، عبادت، امان، اعتماد وغیرہ۔ بندے کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی قسم اٹھائے، امانت تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔