الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَالْحَادِمِ وَسَيِّدِهِ باب: خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9849
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ اس چیز کو انڈیل دے جو کچھ اس کے برتن میں ہے، پس بیشک اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی مرد دوسرییا تیسرییا چوتھی شادی کرنا چاہے یا شادی کر لے تو کوئی بیوی کسی دوسری بیوی کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔