حدیث نمبر: 9848
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ هُوَ مِنَّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی خادم کو اس کے مالکوں کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے کسی خاوند کے حق میں اس کی بیوی کو بگاڑا، وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث میں جن دو گناہوںکی نشاندہی کی گئی ہے، وہ کسی گھرانے میں فساد ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ کسی شادی شدہ عورت کے سامنے اس کے خاوند پر ناقدانہ بحث نہ کریں، بلکہ مختلف مثالیں دے کر اسے اپنے گھر پر مطمئن کرنے کی کوشش کریں، تاکہ اس کے دل میں خاوند کا احترام برقرار رہے اور وہ اس کی بغاو ت کرنے سے باز رہے۔ یہی معاملہ خادم کا ہے کہ دوسرا آدمی اس کو زیادہ اجرت کی لالچ دے کر اپنی خدمت پر آمادہ کرے اور اس کے مالک کی بدخوئی کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے مالک کے حق میں نافرمان اور بد اخلاق ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9848
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2175 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9157 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9146»