الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَالْحَادِمِ وَسَيِّدِهِ باب: خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9847
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ دو افراد میں ان کی اجازت کے بغیر جدائی ڈالے۔
وضاحت:
فوائد: … امام ابو داود اور امام ترمذی نے اس حدیث کو آداب ِ مجلس میں ذکر کیا ہے، یعنی جب دو آدمی اکٹھے بیٹھے ہوں تو کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان گھس کر بیٹھ جائے، الا یہ کہ وہ اس کو اجازت دے دیں۔
اس حدیث کے الفاظ تو عام ہی ہیں، البتہ میاں بیوی کے حوالہ سے طلاق اور خلع کے مسائل الگ ہیں۔
اس حدیث کے الفاظ تو عام ہی ہیں، البتہ میاں بیوی کے حوالہ سے طلاق اور خلع کے مسائل الگ ہیں۔